Friday, March 6, 2009

فیض.... منہدم ہو جائیں گے؟

فیض.... منہدم ہو جائیں گے؟
محمد حمید شاہد

تیرہ فروری انیس سو گیارہ کو پیدا ہونے والے فیض احمد فیض کی روح اگر بیچ کے عرصے میں قفس عنصری سے پرواز نہ کر گئی ہوتی تو وہ خیر سے اب نوے برس کے ہوتے۔
اور عین ممکن ہے کہ کوئی ایک آدھ۔ م راشد ہی یہ لکھتا کہ ”فیض احمد فیض کی شاعری اور ذہن میں فکری تساہل نے ناگزیر عنصر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ وہ کسی بھی مسئلے کے بارے میں گہرائی سے نہیں سوچ سکتے کہ ان میں تجزیہ کاری کی صلاحیت تقریبا مفقود ہے“۔
مگر بقول حمید نسیم اب تو یہ صورت ہو گئی ہے کہ ہر مبتدی فیض صاحب کی کلام کو تختہ مشق بنا رہا ہے۔ حمید نسیم کو اس وقت حیرت ہوتی تھی‘ جب ادبی محفلوں میں اور اخبارات و رسائل کے لئے نو بالغ اور نو مشق شاعر و ادیب فیض صاحب کی شاعری پر اعتماد و جوش کے ساتھ کج بخشی کرتے تھے مگر مجھے یکے بعد دیگر کئی ایسے مضامین دیکھ کر تشویش ہونے لگی ہے‘ جن میں فض کی بوسیدگی کی جانب بھر وپر اشارے کئے گئے ہیں۔
الہ آباد بھارت سے شائع ہونے والے شمس الرحمان فاروقی کے ادبی جریدے شب خون (شمارہ ۰۴۲) میں وہاب اشرفی ان لوگوں پر خوب برسے ہیں‘ جو فیض کو اپنے وقت میں ہی ایک لیجنڈ (Legend) کی حیثیت دینے لگے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کہنے والے لچنڈ کی حقیقی تعریف سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی اس لفظ کی اہمیت ان پر واضح ہے۔ وہاب اشرفی کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیض خود اپنی تمام تر مقبولیت کے باوجود ایسی خوش گمانی کے شریک نہیں تھے اور بعض معاصر غیر ملکی شعراءکے مقابلے میں خود کو خاصا کمتر ثابت کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا فیض کے اندر خود اعتمادی کی کمی تھی؟ ساتھ یوں ہی منہ کا ذائقہ بدلنے کو دوسرا سوال رکھ دیا ہے.... یا پھر ایسا کہنا ان کی خاکساری کے زمرے میں آئے گا“؟
وہاب اشرفی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ انکساری فیض کی فطرت ثانیہ تھی ‘ اس امکان کو رد کر دیا ہے اور سارتر‘ یا بلونرودا‘ لورکا‘ ناظم حکمت رسول حمزہ اور الیمانوف جیسے شعرا و ادبا سے فیض کی ذہنی مرعوبیت کی داستان کے اپنے ان بیانات اور تحریروں سے برآمد کی ہے‘ جن تحریروں کو انہوں نے آخر کار عمومی ثابت کیا ہے۔ وہاب اشرفی کا کہنا ہے کہ فیض کی ان عمومی تحریروں سے کوئی ادبی نظریہ نہیں نکالا جا سکتا۔ یہاں مجھے وہاب اشرفی کی ایک اور بات خود انہی کے لفظوں میں دہرا لینے دیجئے۔ فرماتے ہیں ”مجھے بار بار احسات ہوتا ہے کہ فیض کے یہاں د و آوازیں ہیں‘ ایک آواز تو اس شاعر کی ہے‘ جو جذباتی زندگی گزارتا ہے‘ جس کے یہاں نغمگی اور غنایت ایک خاص عنصر بن کر ابھرتی ہے اور دوسری آواز فیض کی ہے‘ جو انقلاب کی لے اپناتا ہے لیکن یہ آواز مصنوعی اور اوپر سے تھوپی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کبھی کبھی ناخوشگوار حد تک تیز ہو جاتی ہے اور یہ فیض کا حقیقی رنگ نہیں ہے“۔
اسی شمارے کا دوسرا مضمون ظفر اقبال کا ہے ‘ جو اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں فیض کی شاعری کو نئے سرے سے جانچنا اور پرکھنا چاہئے کیونکہ برق رفتاری سے بدلتے ہوئے اس زمانے میں شاعری کے تقاضے بدل رہے ہیں۔ ظفر اقبال بھی شاعری کے اس قاری پر برستے نظر آتے ہیں‘ جس کی سوئی فیض پر اٹکی ہوئی ہے اور فتوی صادر کرتے ہیں کہ فیض کی شہرت اور شاعری نے شاعری کے مستقبل اور قاری کا راستہ روک رکھا ہے۔
ظفر اقبال اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لئے شاعری کے بدلتے لحن اور ملبوسات کے فیشن کو ایک سا قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ....
”ملبوسات کی طرح شاعری کا پیرہن بھی تبدیل ہونا چاہئے‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ....
”اپنی تمام تر مقبولیت اور اہمیت کے باوجود فیض کی شاعری یک پرتی ہے۔ اس میں بلندی اور تفاع تو موجود (ہے) لیکن گہرائی مفقود ہے۔ دریافت کا عمل اور حیرت کا عنصر جو کہ حقیقی ‘ عمدہ اور اعلی شاعری کی شرط اول قرار پا چکا ہے‘ فیض نے اپنی شاعری کو شاید نادانستہ اس سے محروم رکھا ہے“۔
حتی کہ ظفر اقبال یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ؟
”فیض اپنی تمام تر سنیارٹی کے باوجود احمد فراز‘ پروین شاکر اور امجد اسلام امجد جیسے پاپولر شاعروں کی صف میں خود بخود شامل ہوجاتے ہیں جہاں سستی رومانویت اور شاعری کی سرحدیں اکر آپس میں ملتی نہیں تو ایک دوسرے کے انتہائی قریب ضرور آجاتی ہیں“
”شب خون“ کا تیسرا مضمون شمیم حنفی کا تحریر کردہ ہے۔ یہ مضمون کراچی سے چھپنے والے مبین مرزا کے ”مکالہ“ ۴ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ مضمون نگار نے اس مضمون میں ثابت کیا ہے کہ فیض کی شاعری اپنے قاری سے جو رشتہ قائم کرتی ہے ‘وہ فکر سے زیادہ احساس کا رشتہ ہے۔ یاد رہے شمیم حنفی اپنے مضمون کے آغاز میں یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ صرف جذبے اور احساس کی مدد سے بالعموم بڑی شاعری کا تخلیقی تجربہ ممکن نہیں ہے ۔ لاہور سے شائع ہونے والے نصیر احمد ناصر کے ادبی جریدے ”تسطیر“ شمارہ ۳۱۔۴۱ میں اگرچہ رفیق سندیلوی نے وزیر آغا کی تنقید کے حوالے سے ایک مبسوط مقالہ لکھا ہے مگر وہ فیض کو یاد کرنا بھی نہیں بھولے.... لکھتے ہیں۔
”وزیر آغا نے فیض کی نظم کو انجماد کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ وہ یوں کہ فیض نے اول اول رومان اور حقیقت کے ربط باہم کو فن کا رزنہ انداز میں دریافت کیا تھا مگر جلد ہی ایسا مقام آیا کہ فیض کی شاعری رومان اور حقیقت کے انضمام سے مزید دائرے نہ بنا سکی یعنی گھیراﺅ نہ ہو سکی اور چونکہ تخلیق بھی کلچر کی طرح نمو کی طالب ہوتی ہے اس لئے فیض کی شاعری نقطہ نظر کی قطعیت اور تشہیر کی تکراریت کے باعث منجمد ہو کر رہ گئی اور اس امتزاج سے محروم ہو گئی ‘ جو فن کا طرہ امتیاز ہوتا ہے“۔
یوں لگتا ہے فیض سے محبت رکھنے والے افتخار عارف اکیلے ان سب تیروں کے سامنے کھڑا ہونا چاہتے ہیں تبھی تو ۴۱ فروری کو اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام آفتاب احمد خان کی صدارت میں فیض کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک عدد جلسے کا اہتمام کر دیا ہے۔ مگر اس کا کیا کیجئے کہ ظفر اقبال آفتاب احمد خان کو بھی نہیں مانتے.... وہ کہتے ہیں۔
”آفتاب احمد خان اتنے ٹھس اور دقیانوسی ہیں“ جیسے کہ یک پرتی شاعری کے نقاد کو ہونا چاہئے“
ایسے میں فیض کی شاعری سے براہ راست ”فیض کا کسب کمانے“ والے اپنے ”مربی“ کو منہدم ہونے سے بچانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں یا نہیں‘ میں بار بار ان کی سمت دیکھ رہا ہوں۔
انہدام کی زد میں آئے اپنے محبوب کی مدد کو انہیں ضرور لپکنا چاہئے کہ ان پر فیض کے بہت احسانات ہیں۔
اتنے احسان کہ گنواﺅں تو گنوا نہ سکوں
اب اگر وہ بھی کہ جو ساری عمر اس مقبول شاعر کی مرغوب لفظیات‘ آہنگ اور شہرت پر ہاتھ صاف کر کے اسے عین اپنی صف میں گھسیٹ لائے ہیں‘ مدد کو آگے نہیں بڑھتے تو اس سے بڑا المیہ اردو ادب کی تاریخ میں اور کیا ہو گا۔
(روزنامہ پاکستان اسلام آباد 13 فروری 2001ئ)

سوال یہ ہے کہ.... کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟

سوال یہ ہے کہ.... کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟
محمد حمید شاہد

ٹیلی وژن کی سکرین جگمگا رہی تھی
اور ایک نغمہ گونج رہاتھا۔
”ہم زندہ قوم ہیں.... پائندہ قوم ہیں“
میں خوش ہو رہا تھا اور سردھن رہا تھا
ایک صاحب ‘ جو میرے پہلو میں بیٹھے گوشہ چشم سے سکرین سے امنڈتی روشنیوں کو جھانک رہے تھے یکدم بھڑک کر اٹھے اور لگ بھگ چیخ کر کہا
خاک.... خ....خ....خااااک“
میں چونکا‘ ادھر ادھر بیٹھے لوگوں کی بھی کنوتیاں کھڑی ہو گئیں۔
شعلہ بنا شخص ابھی ابھی تو دم سادھے بیٹھا تھا روز کے معمول کی طرح اسی کونے میں جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا چپ چاپ‘ یوں جیسے مردم بیزار ہو اور کبھی نہ بولنے کی قسم اٹھا رکھی ہو۔ کبھی بولنا پڑتا تھا تو بھی یوں کہ بات کی سرگوشی ہی دوسرے کے کان تک پہنچ پاتی تھی....
مگر۔۔۔۔۔
اب جو بھڑک اٹھا تھا تو یوں کہ جلتی پر تیل کا کنستر الٹ گیا تھا وہ کھڑا تھا اس کی بھنچی ہوئی مٹھیاں ہوا میں لہرا رہی تھیں نتھنے پھڑ پھڑا رہے تھے وہ بول رہا تھا اور اس کے منہ سے جھاگ بہے چلی جاتی تھی....
”زندہ قوم....؟“
ایسی ہوتی ہے زندہ قوم؟
چوروں‘ لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو کھل کھیلنے کی سند دینے والی زندہ قوم!
غیر ملکی قرضوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی زندہ قوم!
لیڈروں‘ حکمرانوں اور رہنماﺅں کی عیاشیوں کے لئے خام مال بنی ہوئی زندہ قوم!
صوبائی‘ لسانی‘ گروہی‘ نسلی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی ڈسی ہوئی زندہ قوم مہنگائی‘ ناانصافی‘ بدانتظامی ‘ تذلیل اور بے حیائی کے ریلے کی زد میں آئی ہوئی زندہ قوم!
ماضی قریب سے نادم‘ لمحہ حال سے شاکی اور مستقبل سے مایوس زندہ قوم!
غیر جمہوری‘ غیر مہذب اور ناکام ریاست کے منتشر افراد کہلانے والی زندہ قوم!
کشکول اٹھائے آج کی ضرورتوں اور عیاشیوں پرکل کو رہن رکھنے والی زندہ قوم!....
دہ مکے فضا میں برسا برسا کر اور گلا پھلا پھلا کر بولے ہی چلا جا رہا تھا جیسے اس کے اندر ایک ایک جملہ ترتیب سے رکھا تھا یوں‘ کہ اب دوسرے جملے کو راہ دے کر اپنی باری پر برآمد ہو رہا تھا ایسے جیسے جملے نہ ہوں پستول کے میگزین میں ترتیب سے بھری گولیاں ہوں تڑ‘ تاڑٍ تاڑ....
میں مسلسل اس کی شرٹ کو پکڑے کھینچ کر بیٹھنے کو کہہ رہا تھا مگر وہ دھیان ہی نہ دے رہا تھا‘ میں اٹھا دونوں ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ کر سارے بدن کا بوجھ اس پر ڈال دیا اور اتنی ہی آواز سے چیخ کر کہا جتنی میں وہ چیخ رہا تھا۔
”پروپیگنڈہ ہے یہ مغرب کا پروپیگنڈہ“
اس نے میری طرف پہلی بار غور سے دیکھا‘ اور دھڑام سے اپنی نشست پر یوں بیٹھا کہ کرسی چر چرانے لگی‘ اس کے دونوں گھٹنے سامنے پڑی میز سے ٹکرائے اور چائے کی پیالیاں اچھل کر لڑھکنے لگیں.... اس کی آواز قدرے دھیمی پڑ گئی.... میرے کہے کو دہرانے لگا....
”پروپیگنڈہ.... مغرب کا پروپیگنڈہ“
مغرب کا بھی اور ہمارے دشمنوں کا بھی”.... میں نے اضافہ کیا“ ورنہ جھوٹ ہے سب اس نے اپنی آنکھیں پہلو بدل کر میرے چہرے پر گاڑ دیں اور مجھے یوں تکنے لگا جیسے اس کی تیز نظر میرے بھیجے کو اڑا کر پار ہو جائے گی۔
میں لڑکھڑا گیا‘ ”شاید سارا جھوٹ نہ ہو.... مگرسارا سچ بھی تو نہیں ہے.... عالمی میڈیا تو ان کا آلہ کارہے جن کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں ہماری سلامتی اور ہمارا وجود آڑے آرہا ہے“.... لڑکھڑاتی زبان سنبھل گئی.... نغمے کے بول آخری بار دہرائے جا رہے تھے جو ہماری چیخ چیخ میں دب رہے تھے۔
”ہم زندہ قوم ہیں.... پائندہ قوم ہیں....“
دیکھو قوم اور بھیڑ میں بڑا فرق ہوتا ہے“....اس کی شہادت کی انگلی میرے کندھے کو کاٹ رہی تھی۔
”قوم منظم ہوتی ہے.... ایک “ اس کی انگلی اب اوپر فلک کو اٹھ رہی تھی اور.... اور.... بات آگے بڑھانے سے پہلے ہی اس کی ساری انگلیاں پھیل کر ہوا میں بھٹکنے لگیں....
” اور.... بھیڑ میں جس کا منہ جدھر ہوتا ہے وہ ادھر ہی کو بھاگے چلا جاتا ہے دوسروں کو روندتا ہوا‘ کچلتا ہوا‘ لتاڑتا ہوا....“
اب وہ لفظ چبا چبا کر نکال رہا تھا.... اس نے ایک سوال اچانک میری سمت اچھالا....
”بتاﺅ کیا زندہ قومیں برضارغبت مسلسل زلت کی کھائی میں گرے چلی جاتی ہیں؟.... آہ“.... لمبا سانس نکال کر اس نے میرے جواب کا انتظار نہ کیا اور خود ہی خود سے کہنے لگا
”حیف کہ ہم من حیث القوم تحت الثری میں گرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور حیرت ہے نیچے گرے جاتے ہیں‘ نیچے اور نیچے.... اور رقص بھی کئے جاتے ہیں‘ گائے جاتے ہیں۔
ٹیلی ویژن پر پروگرام بدل چکا تھا ایک مقبول نغمہ ابرارالحق تھرک تھرک کر گا رہا تھا۔
”کنے کنے جاناں بلو دے گھر....
لائن بناﺅ نالے ٹکٹ کٹاﺅ....“
وہ بڑ بڑایا.... لائن بنانے کی فرصت کہاں!
میں چپ رہا.... مناسب یہی تھا کہ چپ ہی رہوں .... ممکن تھا یوں وہ خود ہی بک جھک کر خاموش ہو جاتا مگر اس نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف کھڑی کی اور پھر آہستہ آہستہ یوں میری چھاتی کی طرف موڑنے لگا جیسے نشانہ باندھ رہا ہو.... یکدم اس کے ہونٹ تھرائے اور باہم یوں ٹکرائے کہ پورے ہال میں ان کا زپاٹا گونج گیا‘ پھر وہ زچ بچ بولے چلا گیا
بلو کا گھر.... نیچے بہت نیچے.... لائن بناﺅ.... نہیں بھاگو....روندو.... کچلو....‘
اس کے گلے میں خراش ہونے لگی لفظ پھنس پھنس کر آمد ہونے لگے حتی کہ اس کا پورا بدن بارش اور طوفان کی زد میں آئی کشتی کے بادبان کی طرح لرزنے لگا‘ آنکھیں بھیگنے لگیں اور مجھے یوں لگنے لگا کہ جو وہ کہہ رہا تھا یا پھر نہیں کہہ پا رہا تھا اس کا لفظ لفظ میرے دل کے بیچ گر رہا تھا....
اس واقعے کو کئی دن بیت چکے ہیں.... مگر وہ شخص جو بظاہر معزز تھا اور اندر سے گولی کی طرح بارود سے بھرا ہوا تھا اب بھی میری یادداشت کے گوشے سے عین اس وقت اٹھ کر منہ سے جھاگ پھین جھاڑنے لگتا ہے جب بھی میں اکیلا ہوتا ہوں....
میں اسے انتہائی باحوصلہ‘ مہذب اور دانشمند کے طورپر جانتا رہا ہوں‘ سفید پوش ہے اپنے وسائل کے بیچ گزر بسر کرنے والا‘ ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرنے والا اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھنے والا....
میں جانتا ہوں کہ اس کی بچیاں اور بچے ابھی سکولوں میں ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ ابھی اس پر نہیں پڑا.... تاہم بچوں کی یونیفارم کتابیں ‘ کاپیاں‘ بسوں کے کرائے‘ فیس اور دوسرے لوازمات کے لئے اسے اپنی تنخواہ سے اچھی خاصی رقم الگ کر دینی ہوتی ہے اس کے پاس موٹر سائیکل ہے گاڑی نہیں لہذا پیٹرول کا خرچ کم ہی ہے تاہم روز روز بڑھتی پیٹرول کی قیمت پھر بھی اس کے بجٹ کو متاثر ضرور کرتی ہے۔ وہ اکثر بجلی ‘ گیس‘ ٹیلی فون وغیرہ کے بلوں کی شکایت کرتا رہتا ہے مہنگائی سے شکوہ بھی اس کے لبوں پر رہتا ہے بیوی کی بیماری اور اس کے لئے دواﺅں کا حصول بھی اس کے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔ انکم ٹیکس اور دوسرے ایڈوانسز کی کٹوتیاں بھی اسے کھٹکتی ہیں۔ وہ اکثر چیلنج کیا کرتا ہے کہ اس کے کنبے جیسے مختصر خاندان والے سرکاری ملازم کی گزر بسر کا بجٹ موجودہ تنخواہ سے کوئی بھی ماہر اقتصادیات بنا دے تو وہ ملازمت ہی سے مستعفی ہو جائے گا ۔یہ سب کچھ وہ یوں بتا تا رہا ہے جیسے اسے بس معمولی سے رنجش ہو کبھی ہنستے ہوئے کبھی یونہی کندھے اچکا کر مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس کا دماغ پوری طرح الٹ گیا تھا۔
میں نے اسے دیکھا تھا اور حیران ہوا تھا
حیران ہوا تھا اور اسے دیکھتا چلا گیا تھا۔
بہت پہلے ایک جملہ پڑھا تھا ”لفظ بھرے ہوئے پستول ہوتے ہیں“
اس جملے کے اصل معنی سمجھ نہ آئے تھے۔
مگر اب جب کہ یہ شخص مجھے اکیلا پا کر میری یادداشت کے پہلو سے اٹھ کر لفظوں کی بوچھاڑ کرنے لگتا ہے تو مجھے بہت پہلے پڑھا ہوا جملہ پوری طرح سمجھ آ جاتا ہے اب تو وہ خود بھی مجھے گولی کی طرح لگنے لگا ہے تانبے کا اور بارود سے بھرا ہوا۔
ایسی گولی‘ جو کسی بھی پستول کی میگزین میں ڈالی جا سکتی ہے۔
جہاں منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی کا یہ عالم ہو کہ وہ خشک سالی کو علی الاعلان سال بہ سال قدم اٹھا کر آتے دیکھیں مگر آنکھیں بند کر لیں ، جہاں ملک کے ایک حصے میں تو خشک سالی کا عفریت روز انسانوں اور مویشیوں کے تر لقمے نگلے اور دوسری طرف منرل واٹر کے بغیر پانی کا تصور ہی محال ہو.... جہاں ایک طرف تعلیم کو سارے وسائل مہیا ہوں حتی کہ تعلیم کے بعد حسب منشا مناصب بھی اور دوسری طرف عین سوانیزے پر سورج ہو تو بھی درختوں کی چھدری چھاﺅں تلے ننگی زمین کے سوا ایک دونی‘ دونی ‘ دو‘ دونی چار کے لئے کوئی اور جگہ میسر نہ ہو.... جہاں غریب اتنی قدرت نہ رکھتا ہو کہ انصاف پانے کورٹ کے دروازے تک پہنچ سکے‘ ظلم اس لئے برداشت کرتا جائے کہ وکیل کی فیس ‘ کوٹ فیس کلرکانہ‘ فوٹوسٹیٹ‘ آمدورفت کا کرایہ اور دوسرے اخراجات کہاں سے لائے گا.... تاریخیںبھگتے کہ محنت کر کے پیٹ کا ایندھن کا بندوبست کرے گا اور یہ سب کچھ ہمت کر کے کر بھی لے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ انصاف ملنے تک اس کی آنکھیں پتھرا نہیں جائیں گیں اور دوسری طرف یہ عالم ہو کہ اہل زر کے پاس چمک ہی چمک ہو.... آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چمک‘ سارے ضابطوں اور قوانین کو انصاف کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی خزاں زدہ سوکھے پتوں کی طرح چرمراکر رکھ دینے والی چمک.... ایسے معاشرے میں بے وسیلہ لوگوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جایا کرتی ہے۔
نوجوان تعلیم پاکر بھی بے روز گار رہتے ہیں....۔
اپنوں کے طعنے سنتے ہیں ۔ وہ اپنی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں‘ جو برداشت نہ کر سکیں باغی ہو جاتے ہیں اور اندھیرے میں اسی ظالم سماج سے اپنا حصہ بزور حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں....
جس قوم کا پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض ہو
آگے سمندر ہو اور پیچھے دیوار
ایسی قوم کے ہر بے وسیلہ شخص کے مقدر میں گولی بننا لکھ دیا جاتا ہے مجھے خدشہ ہے وہ تانبے کے بدن والا ایک شخص نہیں ہے ادھر ادھر اور بھی ہیں جن میں بارود بھرا ہو اہے۔
گولی جیسے لوگ....
جو کسی بھی پستول کی میگزین میں بھرے جا سکتے ہیں....
نسلی تفادت.... علاقائی تعصب.... لسانی جکڑ بندی.... صوبہ پرستی.... فرقہ واریت.... غرض کسی بھی پستول کی میگزین میں.... اور پھر جیسے جو چاہیے جب چاہے تاڑ‘ تڑ‘ تڑ‘ تاڑ چلالے میں بے وسیلہ لوگوں کے چہروں کی سمت دیکھتا ہوں تو مجھے جان اگارڈ(John Agard) کی وہ نظم یاد آ جاتی ہے جو عباس رضوی کی وساطت سے مجھ تک پہنچی تھی.... نظم کا عنوان ہے ” بندوق کی گولی کی جانب سے ایک سوال.... نظم پڑھیں اور اس کی آخری سطر کو ہم خود سے کیا گیا ایک سوال جانیں۔
” میں بندوق کی گولی نہیں رہتا چاہتا
میں بہت عرصے سے بندوق کی گولی ہوں
میں ایک معصوم سکہ بننا چاہتا ہوں
جو ایک بچے کے ہاتھ میں ہو
اور جسے ایک ببل گم مشین میں ڈال دیا جائے
.... میں بندوق کی گولی رہنا نہیں چاہتا
میں بہت عرصے سے بندوق کی گولی ہوں
میں ایک نیک شگون والا بیج بننا چاہتا ہوں
جو کسی کی جیب میں بےکار پڑا رہے
یا کوئی معمولی سا پتھر
جسے کسی کان کے بندے میں لگنا ہو
یا بہت سارے پتھروں کے درمیان
بے شناخت پڑا رہے
.... میں بندوق کی گولی رہنا نہیں چاہتا
میں بہت زیادہ عرصے سے بندوق کی گولی ہوں
سوال یہ ہے کہ
کیا تم قاتل ہو ناترک کرسکتے ہو؟....


سیدھے چلو تو ہیرو ’الٹے چلے تو اچکے

سیدھے چلو تو ہیرو ’الٹے چلے تو اچکے

یکایک سکرین سیاہ ہو گئی....
گھبرا کر ٹیلی فون ملایا.... ”ہیلو! میری سکرین سیاہ ہوگئی ہے....“
”میری بھی“....
”اس کا مطلب ہے سب کی....“
نگہت سلیم کی دعوت پر ہونے والے رابطہ کے اجلاس میں منشایاد کا افسانہ ”کہانی کی رات“ شروع ہوا تو سب جان گئے یہ اس ڈرامے پر لکھا گیا ہے جو ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ میں بار بار کھیلا جاتا رہا ہے.... افسانہ کئی سوالات اٹھاتا ہے....جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ....”آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا....”
’ابو جی ! ڈاﺅن (Down) ہونے میں دیر کتنی لگتی ہے“۔
” ہاں بیٹا تم ٹھیک کہتے ہو دیر تو اپ (Up) ہونے میں لگتی ہے’ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی ہمیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہم آگے کی سمت بڑھ رہے ہیں ایک جھٹکا سا ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے سارا منظرنامہ بدل گیا ہے‘ ہم آگے کہاں بڑھ رہے تھے‘ مسلسل کھائی میں گرے جا رہے تھے۔
منشایاد کو مظفر علی سید نے کاریگر افسانہ نگار کہا تھا اس افسانے میں بھی وہ اپنی کاریگری سے ایک ظالم جادو گر کو لے آتے ہیں.... وہی جادو گر جس کی جان طوطے میں ہوتی ہے۔
کہانی کے بچے دادا جان سے سوال کرتے ہیں....”جادو گر اپنی جان طوطے مین کیوں چھوڑ جاتا ہے“ اس سوال کا جواب کہانی میں آگے چل کر ملتا ہے تاہم یہیں وہ ایک دلچسپ نکتہ اٹھاتے ہیں
”دیووں اور جادوگروں کی جانیں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک اصلی اور دوسری نقلی‘ نقلی جان وہ ساتھ لئے پھرتے ہیں اور اصلی انہوں نے چھپا رکھی ہوتی ہے۔ کہانی کا دادا جان اسے یوں منطبق کرتا ہے۔
”جیسے زوال آمادہ قوموں کے بعض لیڈر دولت کو اپنی جان کی طرح عزیز رکھتے ہیں اور اسے بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کر دیتے ہیں....“افسانے میں منشایاد نے اساطیر سے بھی مدد لی ہے.... اور یدھشڑ کے دربار کا منظر قاری پر کھولا ہے....ٹانک کے احوال میں ہم دیکھتے ہیں کہ کلاکاروں کے سولنگ میں دشمن کے آدمی گھس آئے ہیں اصل اور نقل کا فرق مٹ جاتا ہے بس یہی پتہ چلتا ہے کہ لوگ مار رہے ہیں اور لوگ مر رہے ہیں ‘ اندھے یدھشٹر کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل کون ہے اور نقل کون....؟
کہانی کے ایک اور سوال کا سکہ فضا میں اچھلتا ہے اور ہم اندازہ ہی نہیں کر پاتے کہ وہ چاند کے بل گرے گا یا زنجیر کے رخ.... سوال ہے۔
”جب ہر ہیرو کا انجام ولن کا سا ہوتا ہے تو لوگ ہیرو کیوں بنتے ہیں؟ کہانی میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
”نمایاں نظر آنا اور ہیرو بننا آدمی کی سرشت میں ہے اور آدمی کا آدمی پر حکم چلانا دنیا کا سب سے بڑا نشہ ہے۔ قدیم زمانے مین جب حاکم اور بادشاہ محلوں کی بجائے غاروں اور درختوں کی جھنڈ میں رہتے ‘ پیدل چلتے اور لنگوٹی کسا کرتے تھے تب بھی یہ منصب اتنا ہی دل کش تھا جتنا آج ہے۔ قدیم زمانے میں دنیا کے بعض خطوں میں بادشاہ کو دو یا تین سال کے لئے چنا جاتا تھا پھر دستور کے مطابق قتل کر دیا جاتا۔ معزول اور قتل ہونے والا پکار پکار کر کہتا کہ کوئی اس منصب کی خواہش نہ کرے مگر امیدواروں کی تعداد میں کمی نہ ہوتی تھی“۔
منشایاد کی کہانیوں میں گاﺅں کا منظر فراست لے کر آتا ہے اس کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے....گاﺅں کی پنچائیت کا احوال دیکھئے
”ایک بار ایسا ہوا کہ ایک سرپنچ کے اپنے لڑکے نے ساتھیوں کی مدد سے ایک غریب جلاہے کے کنبے کو بے عزت کر ڈالا اسے خوب زدو کوب کیا اور اس کا گھر جلا ڈالا اور ساتھ ہی موقع پر موجود لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اس کے خلاف گواہی دی تو ان کا حشر بھی ایسا ہی ہوگا۔ جلاہا اپنا مقدمہ پنچائیت میں لے گیا‘ نہایت توجہ اور ہمدردی سے اس کی فریاد سنی گئی مگر آخر میں پنچائیت نے معذوری ظاہر کی کہ اس میں شک نہیں کہ گامو جلاہے کا گھر جلایا گیا ہے ‘ مارا پیٹا گیا ہے اور بال بچوں کو رسوا کیا گیا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ کوئی گواہ ہی نہیں ہے جو گواہ ہیں وہ مجرموں کو پہچان نہیں سکے آگ اور فساد کے خوف سے دور کھڑے رہے۔
پنچائیت کی معذوری سے ایک لطیف نکتہ پیدا کرتے ہوئے کہانی جناح ایونیو کی طرف نکل جاتی ہے پھر وہاں سے زیروپوائنٹ پہنچ جاتی ہے۔
ہماری راہ میں بار بار ”صفر“ کا عدد کیوں آتا ہے کہانی یہ سوال شدت سے اٹھانے کے بعد ایک دلچسپ واقعہ پیدا کرتی ہے واقعے میں بچے ویڈیو پر فلم دیکھ رہے ہیں بچے ریموٹ کنٹرول سے ایک منظر کو روک کر ریورس کرتے ہیں ‘ پھر آگے جانے دیتے ہیں اور ریورس کرتے ہیں تو ان کے قہقہے چھوٹ جاتے ہیں.... فلم کا منظر یوں ہے کہ ایک ادمی ایک لڑکی کو ہار پہنا رہا ہے.... صاف پتہ چلتا ہے کہ ہیرو اور ہیروئن کا روایتی منظر ہے.... بچے ریورس کرتے ہیں .... وہی آدمی ‘ لڑکی کے گلے کا ہار اچک کر پیچھے ہٹتا ہے.... بچے قہقہہ لگاتے ہیں اور کہانی کے دادا جان نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ” سیدھے چلو تو ہیرو.... الٹے چلو تو اچکے....“
ہماری سیاسی تاریخ میں کون ہیرو ہے اور کون اچکا‘ اس کا فیصلہ ہو سکے گا بھی یا نہیں کہانی ہمیں یہ نہیں بتاتی‘ سچ تو یہ ہے کہ حالات بھی ہمیں یہ بتانے سے قاصر ہیں.... کہانی میں اور حقیقت میں بھی ایک ہی منظر دہرایا جا رہا ہے کہ سیاہ سکرین پر تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ایک چہرہ نمودار ہوتا ہے اس بار بھی ہوا ہے.... امید بندھتی رہی ہے اور ٹوٹتی رہی ہے.... اس بار بھی امید بندھی ہے خدا کرے یہ بندھی امید ٹوٹنے کے واسطے نہ ہو۔


احتساب اور نیا کھاتہ

احتساب اور نیا کھاتہ
محمد حمید شاہد

پاکستانی سیاست کی مختصر ترین تاریخ میں جو کہ فقط نصف صدی پر محیط ہے متعدد مواقع ایسے ائے جب قومی دولت لوتنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا مطالبہ ہوا۔ اس نصف صدی کے نصف آخر میں تو اس ضمن میں باقاعدہ قانون سازی بھی کی گئی ۔ ادارے قائم ہوئے بڑے بڑے مگر مچھ پکڑے گئے مقدمات چلے‘ پھر حکومت بدل گئی قومی مجرم ہیرو ہو گئے‘ نئے مجرم کٹہروں میں لائے گئے‘ ثبوت نہ ملنے کا بہانہ ہوا اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات نکلا۔ ایک بار پھر عوام کو فوری ریلیف دینے کی بجائے احتساب کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی ترقیاتی بجت اور عیر ملکی قرضوں میں خورد برد کی تفصیلات طلاب کر رہے ہیں اور ائندہ امداد کو کڑے احتساب اور وصولیوں سے مشروط کر رہے ہیں ایسے میں مجھے جیفرے آرچر کا ایک افسانہ شدت سے یاد ا رہا ہے‘ اس سے پہلے کہ افسانے کی بات کی جائے‘ اپ کو بتاتا چلوں کہ جیفرے آرچر ۰۴۹۱ءمیں پیدا ہوا تھا‘ آکسفورڈ کے ویلنگٹن سکول اور بریزنیوز میں تعلیم پائی اور پھر سیاست کے خرزار میں جا نکلا۔۹۶۹۱ءمیں ضمنی انتخاب جیت کر برطانوی دارالعلوم کا سب سے کم عمر ممبر پارلیمینٹ بن گیا۔ وہ ۶۷۹۱ءتک جممبر پارلیمینٹ رہا۔ اس کی متعدد کتب شائع ہو کر قبول عام کی سند پا چکی ہیں۔ جس کہانی کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ اس کے مجموعے ''A TWIST IN THE TAIL''میں ہے۔
”اکاﺅنٹ“ (نیا کھاتہ) اس کہانی کا نام ہے اور اس میں جو منظر دکھایا گیا ہے اگرچہ وہ نائیجیریا کا ہے تاہم نام اور مقامات بدل دیئے جائیں تو مین مین اپنے ملک جکا لگنے لگتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب مسٹراگناٹیئس اگر بی کو نائجیریا کا وزیر خزانہ بنایا جاتا ہے تو یہ وہ عرصہ ہوتا ہے جب ہر طرف مایوسی کا عالم تھا۔سترہ سال کے عرصے میں سترہ وزیر خزانہ بدل چکے تھے۔ جو بھی آتا تھا قومی خزانہ لوٹنے والوں کے ہاتھ ٹریپ ہو جاتا تھا۔ اگرچہ نئے وزیر خزانہ نے آتے ہی رشوت خوری ‘ بدعنوانی اور مالی بدانتظامیاں ختم کرنے کے لئے فوری موثر اور سخت اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا تھا مگر لوگ مایوس تھے کہ یہی کچھ ایک مدت سے کہا جا رہا تھا۔ تاہم نیا وزیر خزانہ بد دل ہونے کی بجائے پورے جوش سے مصروف ہو گیا۔ کئی بدعنوان لوگوں کو جیل بھجوا دیا اس میں وزارت خوراک کا اہلکار‘ پولیس افسر اور دوسرے سرکاری ملازم بھی شامل تھے۔ قومی دولت کا کچھ حصہ وہ یوں واپس لانے میں کامیاب بھی ہو گیا اور لوگ اس کے کارناموں کا اعتراف کرنے لگے۔ سربراہ مملکت بھی اس کی کارکردگی سے بہت خوش ہوا۔ایک ملاقات میں وزیر خزانہ مسٹر اگناٹئیس نے خیال ظاہر کیا کہ عیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی رشوت سوئس بینک کے نجی حسابات میں جمع ہو رہی ہے تاہم اس نے اعتراف کیا کہ فی الحال اس ضمن میں اس کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔سربراہ مملکت نے وزیر خزانہ کو اضافی اختیارات دے دیئے تاکہ وہ ان ملک دشمنوں کی نشاندہی کر سکے۔
کہانی میں بتایا گیا ہے کہ اس نے زور و شور سے مگر انتہائی رازداری کے ساتھ نئی مہم کا آغاز کر دیا۔ سوئس دارالحکومت کے ایک غیر معروف ہوٹل میں قیام کے دوران اس نے بینکوں کی فہرست کا جائزہ لیا جو اس کے ملک کے خفیہ اداروں نے اس مقصد کے لئے بنائی گھی۔ وہیں سے اس نے ایک بینک کے صدر سے اسی روز ملاقات کا وقت طے کیا اور اپنے بوسیدہ بریف کیس سمیت وہاں پہنچ گیا۔ اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بینک کے صدر کو اس نے اپنی حکومت کی طرف سے دیئے جانے والے خصوصی اختیارات کا حکم نامہ دکھایا اور کہا کہ اسے اس کے ملک کے سربراہ نے نائجیریا کے باشندوں کے خفیہ حسابات کا کھوج لگانے کے لئے بھیجا گیا ہے اور اس ضمن میں اسے ان کی مدد چاہئے تھی۔ بینک کے صدر نے نائجیریا کے وزیر خزانہ اور خصوصی سفیر کو جواب دیا.... ”مجھے یہ راز ظاہر کرنے کی آزادی نہیں ہے“۔
یہاں پہنچ کر کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے دلیلیں دی جاتی ہیں’ بینک کا نام راز میں رکھنے کا وعدہ ہوتا ہے لالچ دیا جاتا ہے کہ نائجیریا اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان تمام لین دین اسی بینک کے ذریعے کیا جائے گا حتی کہ دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ آ ئینندہ اس کی حکومت اس بینک سے سارا لین دین بند کر سکتی ہے۔ مگر بینک کے صدر کا ہر بار ایک ہی جواب ہوتا کہ”بینک کے راز ظاہر نہیں کئے جا سکتے “ مسٹر اگناٹئیس ہمت نہیں ہار تا’ قائل کرنے کے لئے دلیلوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے’ گفتگو میں کئی اتار چڑھاﺅ آتے ہیں یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ سوئس سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دلوا دیا جائے گا مگر ہر بار اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حتی کہ مسٹر اگناٹئیس الجھتا ہے اور کوٹ کی اندرونی جیب سے چھوٹا سا پستول نکال کر بینک کے صدر مسٹر برگر پر تان لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے ہر صورت میں اس کے ملک کے خفیہ اکاﺅنٹس رکھنے والوں کی فہرست چاہئے ورنہ اس کی کھوپڑی اڑا دے گا۔ صدر کا اسسٹنٹ قریب آیا تو وہ اسے بھی نشانے کی زد پر رکھ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگلا شکار تم ہو گے لہذا فورا فہرست فراہم کرو’ مگر وہ بھی معذرت کر لیتا ہے تاہم دونوں خوف سے کانپ رہے ہوتے ہیں۔
اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے دراصل وہی کہانی کا المیہ ہے کہانی کا وزیر خزانہ مسٹر اگناٹئیس پستول پیچھے ہٹا کر واپس جیب میں ڈال لیتا ہے بینک افسروں کو بیٹھنے کی درخواست کرتا ہے اور اپنا پرانا بریف کیس کھول کر ان کے سامنے کر دیتا ہے جس میں پچاس لاکھ ڈالر سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔ دونوں بینک افسران حیرت سے اسے دیکھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔
” کیا میں اپنا کھاتہ آپ کے بینک میں کھول سکتا ہوں“۔
کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے.... مگر کہانی یہاں ختم کب ہوتی ہے ایک سوال ہمارے سامنے چھوڑ جاتی ہے کہ آخر کب تک اس طرح کے کھاتے کھلتے رہیں گے۔