Showing posts with label افسانے. Show all posts
Showing posts with label افسانے. Show all posts

Sunday, March 22, 2009

خواب ساتھ رہنے دو

محمد حمید شاہد
خواب ساتھ رہنے دو/ اخلاق احمد


سائیکالوجی کی ایک کتاب میں معروف ماہر ِ نفسیات آر۔ ایل۔ گریگوری R. L. Gregory نے ایک ایسے شخص کی کیس ہسٹری دی ہے جو ادھیڑ عمر کو پہنچ چکا تھا۔ نظر سے محروم ہونے کے باوجود اس نے گذشتہ زندگی بڑی کام یابی سے گزاری تھی۔ بڑا ذہین شخص تھا کہ سارے مسائل کمال خوبی سے سلجھا سکتا تھا۔ معذوری اس کے روزمرہ کے معمولات اور مشاغل میں کبھی رکاوٹ نہیں بنی۔ وہ سفید جھڑی پکڑے اکیلے گھومنے نکل جاتا۔ چلتی ٹریفک ہوتی تو بھی بہ سہولت سڑک پار کر لیتا تھا۔ آر۔ ایل۔ گریگوری نے سہولت کے لےے اس شخص کا نام ایس بی رکھ دیا تھا۔
ادھیڑ عمر ایس بی باغ میں درختوں کے پتوں کے بیچ سے گزرتی ہوا کی سرسراہٹ سنتا، پرندوں کے نغموں سے محفوظ ہوتا، فرنیچر کی مرمت کرتا، چھوٹی موٹی چیزیں بناتا اور یوں اپنی چھوٹی سی تاریک دنیا میں وسعت پیدا کےے چلا جاتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کی وسیع ہوتی دنیا سکڑنے لگی۔ یہ تب ہوا جب اس کے دل میں یہ خواہش کناروں سے بھی چھِلنے لگی تھی کہ کاش وہ دیکھ سکتا۔
بات صرف کاش تک محدود رہتی تو شاید زندگی اتنی جلدی فیصلہ کن موڑ پر نہ پہنچتی۔ اس نے آگے بڑھ کر آپریشن کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ آپریشن کام یاب رہا اسے بصارت مل گئی۔ ایس بی کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد آر۔ ایل۔ گریگوری نے جو کچھ بتایا وہی تو اصل کہانی ہے مگر پہلے اخلاق احمد کی کہانی، جس کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہمارے سامنے ہے۔
میں نہیں جانتا پہلے اور دوسرے مجموعے کے بیچ کتنے لمبے عرصے کی مسافت پڑتی ہے۔ تاہم میں یہ جان گیا ہوں کہ اخلاق احمد نے بیس برس اپنے اندر کی آنکھ بند رکھی وہ یوں کہ اس کا تعلق لفظ سے ہوتے ہوئے بھی نہیں رہا کہ صحافی کو تو واقعہ لکھنا ہوتا ہے۔ واقعہ ، جیسا کہ وہ ہوتا ہے، اس نےالگ رہ کر ، اس سے پرے کھڑے ہو کر۔ اور جب کوئی بے دھیانی میں ان سارے لفظوں کو اپنے اندر اُتر نے دیتا ہے تو وہ محض صحافی نہیں رہتا کہ واقعے میں خود شامل ہو جاتا ہے یا پھر واقعہ اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ یوں بیچ سے خبر ضائع ہو جاتی ہے جو اخبار کا پیٹ بھر سکتی ہے یا پھر دوسرے معنوں میں صحافی کا پیٹ بھر سکتی۔ بیس برس کام یابی سے اخبار کا پیٹ اور اپنا پیٹ بھرنے والا جب اس عمر کے آس پاس پہنچتا ہے جس پر پہنچ کر ایس بی نے اپنی تُند خواہش کے سامنے ہتھیار ڈال دےے تھے اور جسے خود اس نے زندگی کا وہ مرحلہ قرار دیا ہے کہ جب جوانی کو مُڑ کر دیکھنا پڑتا ہے مگر بڑھاپا ابھی دور ہوتا ہے تو چپکے چپکے بدن کے اندر رستے لفظ کہانی میں ڈھلنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس خواہش کو آپ ایس بی کی اس خواہش کے مماثل قرار دے سکتے ہیں جو اس نے دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لےے کی تھی۔
اس کی بھی خواہش پوری ہوئی۔ اخلاق احمد بھی کام یاب رہا مگر اس کے بعد کی کہانی دونوں کے ہاں مختلف ہو جاتی ہے۔ اخلاق احمد نے اپنا مقدر یوں الگ کر لیا کہ اس نے کہانیوں میں در آنے والے سچ کو قبول کر لیا اور انہیں کہانی کا حصہ بننے دیا۔ پھر یہی کہانیاں اس کے لےے پناہ گاہ بن گئیں۔ اذیتوں کی برستی دھوپ بارش میں دن بھر جلتے بدن کو جب ہم رات نیند کے حوالے کرتے ہیں تو خوب پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔
اخلاق احمد کا کہنا ہے ”یہی خواب سراسر افسانے ہیں۔“
”خواب ساتھ رہنے دو“ ایسے ہی افسانوں کی کتاب ہے۔ ادھیڑ عمری کے ٰوابوں سے بنی گئی پہلی کہانی کا عنوان ”بدنصیب“ ہے جو ان دو خوش نصیبوں کی کہانی ہے جو زندگی کو نئی معنویت دینے میں کام یاب ہو جاتے ہیں۔ مہر النساء اور جما ل حسین کی یہ کہانی ائر پورٹ پر پہلے سے طے شدہ ”اتفاقیہ“ ملاقات سے شروع ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ ہم سب کو بھی، کہ جو ادھیڑ عمری کا عذاب بھوگ رہے ہوتے ہیں، اپنے اندر لپٹتی اور ادھیڑتی چلی جاتی ہے۔ کہانی کے آغاز میں محبت کی دو تکونوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ دو مرد اور ایک عورت یا پھر دو عورتیں اور ایک مرد۔ جمال حسین ایک ایسا مرد ہے جس کے لےے شاید مہرالنساءایسی عورت ہے جو شاید جمال ہی سے مکمل ہو سکتی تھی مگر دونوں مقدر کی ہونی شدنی کے ساتھ بندھے ہیں۔ جمال ایک ایسی عورت کے ساتھ تیرہ برس سے رہ رہا ہے جس کی کہانی سن کر مہر النساءاگرچہ یہ کہتی ہے کہ ”اس میں بیوی کا کیا قصور“ اور ”کیا احمقانہ بات ہے“ مگر اندر سے یقین کر لیتی ہے کہ جمال کا لمحہ لمحہ اذیت میں گزر رہا ہے اور خود مہرالنساءایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جو محض بارہ سو روپے کا ساسسٹنٹ اکاو¿نٹنٹ تھا جس میں سے چھ سو روپے کا دودھ بچہ پی جاتا تھا اور پھر بھی توتا رہتا تھا۔ اس کی بیوی اور اس کی اپنی اولاد اس کے لےے فقط مالی بوجھ تھے وہ ان سے لڑتا جھگڑتا رہتا تھا مگر وہی شخص اس وقت مہربان ہو جاتا ہے جب مہر النساءکار آمد کموڈیٹی بن جاتی ہے کہ اب اس کی گریڈ سترہ کی تنخواہ اور سہولیات اس قدر ہیں کہ وہ اپنے دفتر سے بلا جواز چھٹی کر سکتا ہے۔ دیر تک سو سکتا ہے اب وہ بگڑتا نہیں، محبت کا اظہار کرتا ہے اور مہر النساءکا چڑچڑاپن برداشت کر نے لگتا ہے۔ حتّٰی کہ مہر النساءاس کو منصب سے گرادیتی ہے۔ کہانی ان دو تکونوں سے زندگی کی ایک نئی ڈائمنشن پر تیسری تکون کا انکشاف کرتی ہے تو ہم ادھیڑ عمر والوں کے ادھڑے چاک بھی سلنے لگتے ہیں۔ زندگی کی یہ تیسری ٹرائی اینگل وہ ہے جس کے ایک کونے پر جمال ہے دوسرے پر مہر النساءاور تیسرے پر دونوں کی محبت ۔
اخلاق احمد نے بڑی مہارت سے اس کہانی کو نفسیاتی سطح پر بنا ہے کچھ اسی قسم کے فکری مواد مگر قدرے مختلف بیانےے کی ایک کہانی ”گٹکا“ بھی ہے۔ یہ گٹکا کہانی کا مرکزی کردار گل ریز ہے۔ چھوٹا سا، موٹا سا اور گنجا سا۔ جس کی بیوی خوب صورت مہذب اور سوشل ہے مگر خود گل ریز ملٹی نیشنل کلچر کا حصہ ہوتے اور اس قدر خوب صورت بیوی کا حصہ ہوتے ہوئے بھی روشن آرا بیگم اور راجندر سنگھ بیدی پر مرتا ہے۔ اسی گل ریز نے گذشتہ ڈیڑھ دو سال کا عرصہ ایک ایسی عورت کی محبت میں گزارا ہے جو اسی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ یہ دوسری عورت خوب صورت نہیں ہے، سانولی، فربہ، بے ڈھب بدن والی عام سی عورت مگر ویسی ہے کہ جس کے ساتھ جیا جا سکتا ہے اور مرا بھی جا سکتا ہے بغیر کسی پچھتاوے کے۔ یہاں آکر جب زندگی اپنا اصل بھید کھولتی ہے تو سرشار کر دیتی ہے اور ایسے میں ایک دوست کا دوسرے دوست کو بے تکلفی میں لات مارنا مزہ دے جاتا ہے۔
کہانی ” محمد حسین کی خود کشی“ میں عیار محبت کا دل کش تذکرہ ہے۔ اس تذکرے میں ایک ایماندار افسر ہے جسے محبت کی چمک میں پاو¿ں دبانے والی بیوی ، روح میں گداز پیدا کرنے والی ننھی سی گڑیا اور پل پل دعائیں دینے والی ماں حتّٰی کہ کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ اگر یاد رہتا ہے تو فقط ریحانہ قریشی کا ملیح چہرہ اس کے گالوں کی ابھری ہوئی ہڈیاں اور آنکھوں میں دوستانہ مسکراہٹ کی جگمگاہٹ۔ اس لش لش کرتی محبت میں محمد حسین اپنی خود کشی کا سامان اپنے ہاتھوں سے یوں کرتا ہے کہ کلفٹن کی مرکزی شاہراہ کا ایک ایسا پلاٹ ڈیڑھ کروڑ میں قریشی بلڈرز کو الاٹ کر دیتا ہے جسے وہ بعد ازاں گیارہ کروڑ میں بیچ ڈالتے ہیں۔ تب اسے لگتا ہے وہ اندر سے مر رہا ہے اور جب وہ بیماری کی رخصت سے پلٹتا ہے تو وہ خود نہیں ہوتا اس کی لاش ہوتی ہے جس کے سامنے بیٹھا تعمیراتی سیٹھ کَہ رہا ہوتا ہے۔ ”حکم کریں سرکار“
دل نشیں بیانےے اور واقعات کی مناسب ترتیب نے قدرے پرانی کہانی کو نیا پن دے دیا لیکن اب مجھے ایک ایسی کہانی کا تذکرہ کرنا ہے جو سچ مچ نئی ہے بدن کو چیر کر اندر گھُس جانے والی اس نویں نکور کہانی کا تانا بانا ”باو¿ وارث کم گُم شُدگی“ سے متعلق تحقیقی رپورٹ کے اقتباسات سے بُنا گیا ہے جس کا کلائمکس ڈکیتی والی ایک رات ہے جب پستول کی کالی نالی کے سامنے باو¿ وارث کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں وہ معافیاں مانگتا ہے، منتیں کرتا ہے، روتا ہے گڑگڑاتا ہے کہ وہ مرنا نہیں چاہتا اس لےے کہ اسے اپنے بیٹے کا کام یاب شخص دیکھنا ہے، اسے بیٹی کو رخصت کرنا ہے اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی بے سہارا ہو جائے۔ جب یہ منظر بدلتا ہے تو بیٹی اور بیوی کی نظروں میں چھپی نفرت باو¿ وارث سے برداشت نہیں ہوتی اور بیٹے کا یہ کہنا کہ ” آدمی کو اتنا بزدل نہیں ہونا چاہےے“ اس کی عمر بھر کی محبت کو رائیگاں کر دیتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اچھا ہوا جو محبت ماپنے کا آلہ ایجاد نہیں ہوا اگر ایسا ہو جاتا تو اور زیادہ دکھ ہوتا کہ اتنے ٹن محبت ضائع ہو گئی۔ پھر وہ ان کی زندگیوں سے یوں نکل جاتا ہے کہ باقی فقط نامکمل تحقیقاتی رپورٹ رہ جاتی ہے۔ اخلاق احمد نے پوری حیات پر محیط بے لوث محبت کے رائیگاں چلے جانے والے لمحے کو کمال چابک دستی سے گرفت میں لیا ہے۔
برباد ہو اجانے والی محبت کے پہلو بہ پہلو باقی رہ جانے والی محبت کی ایک کہانی بھی اس مجموعے میں جگہ پا گئی ہے یہ کہانی ”ایک محبت بھری عورت“ ہے۔ یہ مصطفی زیدی کے ہم نام ایسے شاعر کی کہانی ہے جو دراصل شاعر نہیں ہے مگر شاعر کی سی زندگی گزارنے کی طلب کے بیچ ہی مر جاتا ہے۔ یہ کہانی اس کی بیوی رابعہ کی بھی ہے جو اپنے شوہر کے مرنے کے بعد بھی اس کی محبت میں زندہ رہنا چاہتی ہے اور اس کا مجموعہ کھٹمنڈو سے اس لےے چھپوانا چاہتی ہے کہ پاکستانی صحافی شہباز حسین نے اِسے یقین دلا دیا ہے کہ وہ اس صدی میں سب سے طاقت ور اردو شاعر ہے۔ عورت کی محبت تو ازل سے اتنی ہی روشن، اتنی ہی اندھی اور اتنی ہی پُرجوش رہی ہے مگر سچ جانےے تو یہ کہانی شہباز حسین کی بھی ہے جس کے پاس رابعہ کے لےے ایسے مشکوک لفظ ہیں جو کتابوں کے فلیپ لکھنے والوں کے پاس اکثر ہوتے ہیں۔ میں ان پیشہ ور فلیپ لکھنے والوں کو عجب عجب پینترے بدلتے دیکھا ہے۔ ان کا لکھا ان کے کہے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اتنا دور کہ بیچ میں سچ کہیں گم ہو جاتا ہے۔
مجموعی طور پر اخلاق احمد کی کہانیاں ایسے نفسیاتی الجھاوے ہیں جو بڑی سہولت سے اپنا سِرا قاری کے ہاتھ میں تھما کر خود بخود کھُلتے چلے جاتے ہیں۔ ”تھینک یو مولوی صاحب“ اس کی ایک عمدہ مثال ہے جو ایک ایسے قاتل کہانی ہے جسے کچھ ہی دیر بعد پھانسی چڑھ جانا ہے او ر وہ مولوی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہے کہ اندھے قتل کا اعتراف کر کے اور سزائے موت پا کر وہ کہیں خود کشی کا مرتکب تو نہیں ہو رہا اور کیا خود کشی کا کوئی جائز راستہ بھی ہو سکتا ہے؟
اخلاق احمد جب اپنی کہانیوں میں عجیب عجیب سوالات اٹھاتا ہے تو ادھیڑ عمر کو پہنچ بصارت پانے والے ایس بی کا کیس یاد آجاتا ہے اور اسی کیس کے حوالے سے آر ۔ ایل ۔ گریگوری نے جو کہا تھا اسے کَہ دینے کا مرحلہ آ گیا ہے۔ ہوا یوں کہ ایس بی کو جب بصارت مل گئی تو اس کے بَرتے ہوئے حِسی ادراک اور نئے بصری ادراک کے بیچ اتنا بُعد تھا کہ اس کا فاصلہ پاٹتے پاٹتے وہ تیسرے سال ہی مر گیا۔
تاہم میں نے جو شروع میں یہ کَہ دیا تھا کہ اخلاق احمد کا مقدر الگ ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کم حوصلہ نہیں ہے اور باتدبیر بھی ہے۔ اس نے طویل عمری کا حیلہ یوں کیا ہے کہ کہانیوں کو اپنی کھڑکی سے اندر آنے دیا ہے اور کہانیوں کے بیچ اپنی زندگی کے سچ کو بھی داخل ہونے دیا ہے۔ ایسے میں مجھے گراہم گرین کا کہا یاد آرہا ہے۔ اس نے لکھا تھا : ”لکھنا طریقِ علاج ہے۔“
اس نے یہ بھی لکھا تھا: ”بعض اوقات مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو لکھتے نہیں، شعر نہیں کہتے، مصوّری نہیں کرتے، اس پاگل پن ، جنون اور ہیبت ناک خوف سے جو انسانی صورت حال میں موجود ہوتا ہے، فرار کی راہ کس طرح نکال لیتے ہیں۔“
اخلاق احمد نے نہ صرف ہیبت ناک انسانی صورت حال سے فرار کی راہ نکال لی ہے، زندگی کے سچ کے لےے خوابوں کی پناہ گاہ بھی ڈھونڈ نکالی ہے اور یہ ایسی پناہ گاہ ہے جس میں ادا کیا جانے والا ہر لفظ کمبی عمر پا لینے کا وظیفہ کرتا ہے۔


عاصم بٹ کی فکشن کی تخلیقی فضا

محمد حمید شاہد
عاصم بٹ کی فکشن کی تخلیقی فضا

محمد عاصم بٹ کی فکشن نگاری اس کی ترجمہ کاری سے پھوٹی مگر جلد ہی اپنی جڑوں کی تلاش کی سمت راغب ہوگئی ۔ پہلے وہ عالمی ادب کے تراجم کی طرف متوجہ ہوا اور اسی کے بیچ کسی مہربان لمحے میں تخلیق کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اور اس نے کہانی لکھنا شروع کردی ۔ ہم میں سے بعضے جو لگ بھگ اس کے تراجم کے عادی ہی ہو چکے تھے اس کی کہانیوں میں غیر ملکی اثرات تلاش کرنے میں جت گئے ۔ جہاں کہیں جملہ روایتی دھج سے ہٹ کر لکھا ہوا ملا ‘کہہ دیا اس پر تو ترجمہ کی چھوٹ پڑتی ہے ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ عاصم بٹ کے لیے آغاز ہی میں مشکلات رکھ دی گئی تھیں۔
یہ مشکل تو اس کے اپنے طرز عمل کی زائیدہ تھی ۔ کچھ اور مشکلات بھی تھیں جو گذشتہ ربع صدی میں سامنے آنے والے افسانہ نگاروں کی پیڑھی سے تعلق کی وجہ سے اسے بہرحال درپیش آنا تھیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس نسل کے تخلیقی تجربے سے دوچار ہونے تک افسانہ نگاری کے نام پر شعبدے دکھانے اور راتوں رات مشہور ہونے کا زمانہ لد چکا تھا ۔ اب وہ گروہ بھی میسر نہ تھے جو گرمئی بازار کا سماں باندھے ہوئے تھے ۔ میری مراد ان گروہوں سے ہے جو تنکا اُتارتے اور چھپر رکھ دیتے تھے ۔میر تقی میر کا شعر یاد آتا ہے
لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تو
یہ گرمی تری اِس شرارت کے بعد
جب افسانہ نگاری کے نام پر ساری گرمی فقط شرارت اور شعبدہ گری ہو گئی اور تنقید کا منصب اس سے وہ معنی برآمد کرنا ٹھہرا جو اس میں ہوتے ہی نہیں تھے تو وقت کے پہلو بدلتے ہی یہی اوپر سے کیڑوں کی طرح ڈالے گئے معنی عیب ہو گئے۔ عاصم بٹ اپنے افسانوں کو شروع ہی سے اس عیب سے پاک رکھنا چاہتا تھا ا سے اس قاری کی فکر بھی دامن گیر تھی جو اب تک اکتا کر کنارہ کر گیا تھا۔ اس نے اپنے افسانوں کے اکلوتے مجموعے ”اشتہار آدمی اور دوسری کہانیاں“کے آغاز میں دو لفظوں میں یہی قصہ سنا یا ہے :
” ایک وقت تھا ‘ اردو افسانوں کے مجموعوں کی فروخت ادبی کتب میں سب سے زیادہ تھی ۔ آج صورت حال بہت مختلف ہے افسانوی مجموعہ کا ایک ہزار کا ایڈیشن چیونٹی کی رفتار سے فروخت ہوتا ہے ۔اسے قاری ڈھونڈنے پڑتے ہیں “
اور اس سے اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ :
” جب لکھنے والے پڑھنے والوں کو کھو دیتے ہیں تو اس میں زیادہ قصور لکھنے والوں کا ہو تا ہے “
یہ الگ سوال ہے کہ قاری کا کتنا خیال رکھا جانا چاہیئے ۔ تاہم اب ہم سہولت سے اس تخلیقی فضا سے مانوس ہو سکتے ہیں جو عاصم بٹ کا نکتہ نظر‘ اور طرز احساس اسے مہیا کر رہا تھا ۔ سہولت کے لیے ایک دفعہ پھر دہر لیتے ہیں ۔
۱۔ تراجم کا تجربہ اور دساوری فکشن کی فضا جو بہرحال اس کے اندر حلول کرکے اس کی ذات کا جز ہو چکی تھی۔
۲۔ قاری سے تعلق قائم کرنے کے لیے ایسے اسلوب کی تلاش ‘جس پر گزشتہ عرصے کے اس افسانے کا سایہ نہ ہو جس نے قاری کو بدکا دیا تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ عاصم بٹ کے تخلیقی مزاج کو انہی دو حوالوں سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔ تاہم ان میں دو باتوں کا مزید اضافہ بھی کر لیجئے۔
۳۔ عاصم بٹ کا تخلیقی سطح پر تفکر سے دوچار ہوتے ہوئے بھی تفکر کے نامیاتی وحدت میں ڈھل جانے والی فکر سے مسلسل اور شعوری گریز۔
۴۔ اندرون لاہور کی شہری فضا جو عاصم بٹ کے افسانوں کا عمومی منظر نامہ متشکل کرتی ہے ۔
چھ افسانوں پر مشتمل ”اشتہار آدمی اور دوسری کہانیاں “ کی اشاعت کے ساتھ ہی جن لوگوں نے عاصم بٹ کے بیانئے کو ایک ترجمہ نگار کا بیانیہ قرار دیا تھا‘لگ بھگ اتنے مزید افسانوں اور ایک عدد ناول ” دائرہ“ کی اشاعت کے بعد ان کے اعتراض کی شدت کم ہو گئی ہے ۔ کتاب کے بعد کے افسانوں اور ناول کو سامنے رکھتے ہوئی میں اس کے بیانیے کی قبولیت کی دو وجوہ تک پہنچا ہوں ۔
۱۔ قاری کی تلاش میں فرنٹ سٹالز پر دھڑا دھڑ بکنے والے ڈائجسٹوں کے بیائیے کی بجائے یک سطحی ادبی بیانئے کی طرف مسلسل سفر۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس سفر میں بہت سے مقامات آتے چلے گئے ہیں جہاں اس کا بیانیہ اس سے باغی ہو کر یک سطحی نہیں رہتا دبیز ہو جاتا ہے اس کی سامنے کی ایک مثال اس کا افسانہ ”چالیس برسوں پر محیط ایک لمحہ ہے “ جس میں اس کے بیانئے سے وہ روحانیت بولنے لگی ہے جس سے اس نے شعوری سطح پر ناطہ توڑا ہوا ہے ۔
۲۔ عاصم بٹ کے قاری کا ایک ترجمہ کار کی تخلیقی طورپر کارآمد زبان کو قبول کر لینا تاہم یہ بہت کم تر سطح پر ہوا ہے جس کی وجہ سے زبان کا یہ نیا ذائقہ پوری طرح عاصم کی شناخت نہ بن پایا ۔ میں نے عاصم بٹ کے افسانوں کی کتاب کی اشاعت پر خیال ظاہر کیا تھا کہ اگر اس نے استقلال کے ساتھ جملوں کی کنسٹرکشن کا یہی قرینہ اپنائے رکھا تو اسی سے اس کی الگ شناخت بن سکتی ہے ۔ مگر ہوا یہ ہے کہ عاصم بٹ نے ترجمہ کار کی زبان کو اپنی خوبی اور شناخت بن جانے سے پہلے ہی اسے خامی مان کر بعد کے افسانوں اور ناول میں جملوں کی ساخت کو بدل کر زبان کو بہت حد تک رواں کر لیا ۔
زبان نہیں اور علامت کا استعمال بھی نہیں۔ خواب‘ موت‘بے چہرگی کے استعارے اس نے برتے ضرور مگر انہیں نمایاں عنصر بننے نہ دیا گویا ایک فکری نظام کی تشکیل یا پہلے سے تشکیل شدہ نظام سے وابستگی بھی نہیں‘ تو پھر وہ کیاغالب عُنصر ہے جس سے عاصم کے ہاں تخلیقی فضا متشکل ہوتی ہے‘ صاحب میرے سامنے یہ سوال تھا۔ اور میں نے اس سوال کا اپنے تئیں جواب تلاش کرنے کی سعی کی تو اس نتیجے پر پہنچا کہ جُز و نگاری ۔ یہی جزو نگاری کہیں تو جزُرسی بھی ہو جاتی ہے اور کہیں کہیں افسانہ نگار کو انہیں اجزاءکا رسیا دکھاتی ہے تاہم مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو مان لینا پڑتا ہے کہ افسانہ ہو یا ناول ‘ یہی اجزاءایک واقعے کو متشکل کرتے ہیں اور پھر واقعات جڑ کر ایک افسانے یا ناول کی صورت بناتے ہیں ۔ گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مواد کے اعتبار سے اجزا کا بیان‘ کہانی کے اعتبار سے واقعات کا بیان اور بعد ازاں ان کا اتصال بنیادی قرینہ بنتا ہے ۔ زبان واقعے کے اجزاءکے بیان کے لیے پینترے بدلتی رہتی ہے تاہم یہ پینترے جملے کی ساخت کے اندر ہوتے ہیں واقعے کے بیان میں انفرادی جملوں کا یہ عجب اپنی الگ شناخت گم کر دیتا ہے اور اجزا واقعے کی صورت گری کرتے ہوئے زبان کو رواں کر دیتے ہیں ۔
جب کہانی میں واقعہ اہم ہو اور واقعے میں جزو پوری توجہ اور اخلاص کا سزاوار ٹھہرے تو بیانیے کا سہج سہج چلنا یقینی ہو جاتا ہے ۔ اس تخلیقی طرز عمل نے عاصم کی کہانیوں میں بطور خاص لاہور کے اندرون کی فضا کواپنی پوری باریکیوں اور خوب صورتوں کے ساتھ زندہ کر دیا ہے ۔ جزو نگاری کے حوالے سے اندرون شہر ( یا میری مراد اندرون لاہور ہی ہے ) کی فضا کے اور اس سے وابستہ و پیوستہ حسیت کے ساتھ ساتھ جو چیز عاصم بٹ کے افسانوں میں نمایاں ہوتی ہے وہ ہے کرداروں کی تشکیل اور ان کے ساتھ وفاداری۔ کہیں کہیں تو کہانی لکھنے کی للک پر کردار نگاری کاچسکا اس قدر حاوی ہو جاتا کہ افسانے کے اندر کہانی کا بہاﺅ تھم جاتا ہے یا پھر سرے سے معدوم ہو جاتا ہے تاہم ایسے میں بہرحال وہ کردار اپنی پوری قامت کے ساتھ سلامت رہتا ہے ۔ جزیات نگاری کے رسیابہت سے لوگوں کے ہاںیہ رویہ خامی کے طور پر نمایاں ہوا ہے مگر عاصم کے افسانوں اور ناول میں نے اسے خوبی بنتے دیکھا ہے اور وہ یوں کہ کہانی کا دائرہ اس کے ہاں اتنا اہم ہوتا ہی نہیں جتنا کہ کردار کی اپنی قامت ۔ اور اس قامت میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ قاری کو اسیر کرلے اور اتنا اسیر کیے رکھے کہ کہانی کے بہاﺅ کی سمت دھیان بھی نہ جائے۔
اب رہ گئی قاری کی بات جس کی تلاش کا ہوکا شروع میںعاصم بٹ کو بہت تھا اور جس کو مدنظر رکھ کر اس نے اپنے آغاز کے افسانوں میں ڈائجسٹوں والی زبان کو اپنایا تھا اور جہاں بھی موقع نکل سکا‘ جنس کے موضوع کو لذت کی سطح پر برتا ‘ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس سطح کا قاری اب عاصم کا مسئلہ نہیں رہا ۔ اسے بھی اب باذوق قاری کی تلاش ہے ۔مجھے یہیں آپ کی توجہ عاصم کے ناول ”دائرہ “ کے اختتامیہ کی طرف چاہیئے جہاں امین گل ‘امین گل نہیں رہتا‘ راشد اورآصف ہو جاتا ہے ‘ وہیں جہاں کچھ سجھائی نہیں دیتا ‘ کچھ سنائی نہیں دیتا ‘خواب اور حقیقت میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اور عین اسی مقام پر میں آپ کو عاصم کے کتاب کے بعد میں لکھے گئے ایک افسانے کی طرف بھی لے جانا چاہتا ہوں ‘جس کا ذکر میں اوپر بھی کر آیا ہوں ‘ وہی جس میں چالیس سال کی عمر پالینے کے بعد غفلت کا پردہ چاک ہوتا ہے اور اپنے باطن سے مابعدالطبیعیاتی سطح پر مکالمے کی صورت نکلتی ہے ‘ یہ دو مثالیں ایسی ہیں کہ فقط کھوئے ہوئے قاری کی تلاش کا مسئلہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور اپنے تخلیقی وجود کے اندر بپا تصادم فائق ہو جاتا ہے ۔ یوں میں عاصم بٹ کے وجود کی گہرائی سے جس تبدیلی کی آہٹ ایک مدت سے محسوس کر رہا تھا وہ اس کے لاکھ پہلو بچالینے کے باوصف ‘اب اس کی تخلیق میں بھی ظاہر ہونے لگی ہے جسے میں بہرحال خوش آئند سمجھتا ہوں۔

Saturday, March 21, 2009

لبابہ عباس کے افسانے

محمد حمید شاہد
لبابہ عباس کے افسانے

راجندر سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ افسانے کا کوئی کلیہ قائم نہیں کیا جاسکتا ‘اس کی نظر میں جتنے لکھنے والے تھے ‘ یا پھر جتنی کہانیاں تھی اتنے ہی ان کے لکھنے کے طریقے تھے ۔ دنیا کو اس نے پرانے فلسفیوں کے قول کے مطابق ایک تخیل قرار دیا تھا اور تسلیم کیا تھا کہ ہم جو شروع اور آخر کے انداز میں سوچتے ہیں اس کی حقیقت کو پوری طرح پا ہی نہیں سکتے ۔ صاحب‘ جسے پا نہیں سکتے اس کا دھندلا سا خاکہ تو بنا سکتے ہیں۔ بیدی کا کہنا تھا کہ ’خیال‘ کو’ دام خیال‘ میں لانے کے لیے ہم نے ایک افسانوی سازش تیار کی ہے ۔ سو جتنی کہانیاں ہیں اور جتنے کہانیاں لکھنے والے ہیں اتنی ہی کہانی کی صورتیں ہیں ۔
لبابہ عباس نے اوپر تلے چھپنے والے اپنے دو مجموعوں” سمجھوتے کی چادر“ اور ” دھند میں راستہ“ میں جس افسانوی سازش کا حیلہ کیا ہے اس میں کہانی کا بہاﺅ تند اور معنیاتی ترسیل دھار بہت تیز ہے ۔ بظاہر جنسی حِسّیت اس کے افسانوں کا نمایاں پہلو لگتا ہے تاہم میں نے محسوس کیاہے کہ اس کی کہانیوں کا بنیادی سروکار خالص جنس نہیں بلکہ خاندان کے انسٹی ٹیوشن کا استحکام ‘اس کی بقاءاور اس حوالے سے سر اٹھانے والے اندیشے ہیں ۔
جس آئیڈیل خاندان کا تصور لبابہ کے افسانوں سے متشکل ہوتا ہے اس میں ماں کا کردار مرکزی ہے ایسی ماں کا کردار جو اپنی نسل کو اپنے پرکھوں کا تہذیبی سرمایہ منتقل کر نا چاہتی ہے ۔ خاندانی انسٹیٹیوشن کی بقا پر زور دیتی کہانیوں کے ضمن میں آپ ”لالٹین روتی ہے‘ ‘”وہ چار برس“ ” دولے شاہ کا چو ہا“ ’ مخملیں کانٹے “ ” اثاثہ کچے خوابوں کا“ جیسی کئی اور کہانیوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں جن میں کہیں تو خاندان کو تحلیل ہوتے ہوئے دکھ کی وہ کیفیت ابھاری گئی ہے جس میں سینے پھٹ جاتے ہیں اور کہیں ان وجوہ کو اجاگر کیا گیا ہے جو مشترکہ خاندانی نظام میں دراڑیں ڈال رہے ہیں ۔ لبابہ کو وہ ماں بہت محبوب ہو گئی ہے جو بیٹوں کی اپنی خوشبو کو سنبھال سنبھال کر رکھنا چاہتی ہے ۔ کہانی ”خوشبو کا سفر“کا گھرانہ بھی اس تہذیبی خوشبو کو بچا لینے کے جتن کر رہا ہے ۔ ”رانی سیدانی“ صرف اس عورت کی کہانی نہیں ہے جو شوہر کے انتقال کے بعد امام بارگاہ کا نتظام سنبھال لیتی ہے بلکہ یہ اس عورت کی کہانی ہے جو رشتوں کو بچا سکتی تھی اور نہیں بچا پائی تھی۔ اسی طرح افسانہ” منے میاں “میں مرد کے اس رویے کو موضوع بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے عورت باغی ہو کر گھر توڑ سکتی ہے۔
جدید زندگی کا آشوب لبابہ کی کہانیوں کا باقاعدہ موضوع بن گیا ہے ۔ افسانہ ”وہ چار برس“ کا شاہجہان مرزا اسی آشوب کو بھوگتے بھوگتے سو گیا ہے۔ افسانہ ”دل مجروح“ کا علی جاوید بچوں کو آسائشیں فراہم کرتے کرتے موت کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے ۔ اس کی اولاد جو نئی زندگی کے آشوب کا لقمہ ہو چکی ہے وہ اس کی زندگی کی دعائیں مانگنے کی بجائے‘ باپ کی موت کو اپنے اپنے ٹائم ٹیبل میں درست درست بٹھانے میں جتی ہوئی ہے ۔ وہ مرنے والے کے لیے موت کا وہ وقت مقرر کر نا چاہتی ہے جس سے ان کی زندگیوں کے اپنے معمولات متاثر نہ ہوں۔ ’ افسانہ ’ ’اثاثہ کچے خوابوں کا“ میں گھر کی عورت مر گئی ہے اور شوہر سوچ رہا ہے کہ اس مہینے کیوں مرگئی اس مہنے تو بچوں کی پچاس ہزار فیس دی گئی ہے ۔ لبابہ نے اپنے افسانوں میں سجھایا ہے کہ زندگی کی روز بروز بڑھتی ضرورتیں کیسے پاکیزہ محبت اور سچے رشتوں کو نگل رہی ہیں ۔
یہ جو میں نے آغاز میںلبابہ کے ہاں جنسی حسیت کا ذکر کیا تھا تو اس کا سبب اس کی ایک دو نہیں کئی کہانیاں ہیں ۔ ”ایک اور راستہ “ ”اطمینان“ ”دو آنسو “” بازار کی بیٹی“ ” زخمی کو کھ“ ” گھر کے بھیڑیئے “ ” بزدل“ ” آدھی چارپائی“ ”مساج“ ” ریت کی دیوار“اور ”بے آئینہ چہرے “ جیسی اوپر تلے کئی کہانیاں۔ جنس کو یوں باقاعدہ مسئلہ بنا کر اورسنجیدگی سے پلٹ پلٹ کر” مردانہ وار“ لکھتے چلے جانا واقعی ہمت اور حوصلے کی بات ہے۔
یہیں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ” بے آئینہ چہرے ‘ جیسی خالص جنسی مسئلہ بیان کرتی کہانی کو چھوڑ باقی کہانیوں کو بغور دیکھا جائے تو ان میں جنس بنیادی مسئلہ بنتی ہی نہیں ہے ۔ اس حوالے سے یہاں میں منٹو کی ایک کہانی ”کالی شلوار“ کے ساتھ جوڑکر لبابہ کی کہانی”دوآنسو“ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ کہ یہ اس ضمن کی عمدہ مثال ہے ۔ پوری کہانی نہیں بس دونوں کی آخری کی سطریں ۔ منٹو نے سلطانہ کو بندوں کے بدلے کالی شلوار دلانے والے شنکر کی پتلون پر شکنیں تک دکھائیں تھیں جب کہ کچھ ایسی ہی شکنیں لبابہ نے نازیہ کی ساڑھی پر بھی دکھا دی ہیں ۔اس ساڑھی پر جس کا بلاﺅز کاٹ کر نازیہ نے بالشت بھر کرلیا تھا ۔ منٹو کی کہانی کا شنکر بڑا شاطر تھا مگر لبابہ نے نازیہ کو مجبور لکھا ہے۔ تاہم وہ اتنی مجبور نہیں ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد باقی رہ جانے والے گھر کو نہ بچا سکے۔ نازیہ کے لیے ایف اے کی سند کام نہ آسکی تو اُس نے جسم کو جارجٹ کی ساڑھی میں سے اچھال کر بکنے والی جنس بنا لیا اور قیمت وصول کر لی۔ یوں یہ کہانی مارکیٹ کی ان قوتوں کے منہ پر طمانچہ بھی ہو جاتی ہے جو جسم کو جنس بنا دیتے ہیں۔
”بازار کی بیٹی“ ”دل کا باغ“ ” ہزار کا نوٹ“ شناس کلینک “ اور ”دل مجروح“ جیسے افسانوں میں بھی اسی منڈی والے معاشرے کی نوٹوں میں تلتی ہوئی اخلاقیات کے چوغے کو تار تار کیا گیا ہے ۔ افسانہ ”بازار کی بیٹی مےں منڈی والے معاشرے میں انسانی وجود کی بے توقیری اورمقدس رشتوں کی پامالی کو انتہائی سفاکی سے دکھایا گیا ہے۔ اس کہانی کو لکھتے ہوئے لبابہ منٹو کے محبوب کرداروں کے مقابل ہو گئی ہے۔ اور اس نے کوٹھے کا لذیذ منظریوں سہولت اور سادگی سے لکھ دیا ہے کہ سب کچھ جیسے قاری اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتاہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ نتھ اتروائی کا ضیاءالدین سے بیس لاکھ کا معاوضہ وصول کرکے اپنی کوکھ میں تخم رکھوانے والی نگار پرجب اس کی بیٹی زیب النساءکی نتھ اتروائی کا مرحلہ آتا ہے توتقدیر ضیاالدین کے بیٹے شکیل کو سامنے لے آتی ہے۔ ضیاالدین کی نسبت سے شکیل زیب النساءکا بھائی ہے ۔ یہ وہ تقدیر ہے جو اس کہانی میں لبابہ نے لکھی ہے اور ایسا لکھ کر بتا دیا ہے کہ منڈی کی عورت کا کوئی بھائی اور کوئی بیٹا نہیں ہوتا ۔ افسانہ ”ہزار کا نوٹ“ میںہزار کا نوٹ مادے سے مات کھاتی نسل کے لیے تو بہت اہم سہی مگر انسانی رشتوں کے خوشبو اور خالص پن کو اپنی روح میں اتار لینے والے باپ کے لیے وہ فقط کا غذ کا ایک پرزہ ہوتا ہے ۔”دل کا باغ“ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ماہ رخ کی ماں مرنے کے بعد اس کے باپ اور بھائی کو اپنا بزنس پارٹنر بنالیتا ہے کہ پیسے کی تہذیب نے محبت کا رشتہ قائم کرنے کا یہی قرینہ بتایا ہے۔ تاہم یہ الگ بات کہ وہ جیت کر بھی ماہ رخ کوہار جاتا ہے۔ اسی ہار سے لبابہ نے اس تہذیبی ورثے کی بقا کا احساس اجاگر کیا ہے جس میں مادہ اور مارکیٹ کو محبت مات دے دیتی ہے۔
میں نے بڑے بڑوں کو ڈینگیں تو بہت مارتے دیکھا ہے مگر جب انہیں راست کہانی کی تلوار جیسی تیز دھار حقیقت کے مقابل ہونا پڑا تو ساری ہَیکڑی بھول گئے ‘ ہاتھ پاﺅں پھول گئے کہ جس معاشرے میں رہتے تھے اس کی چولی کیسے اتاریں۔ آڑ لینے کو ادھر ادھر کی کئی باتیں لکھ ڈالیں‘کہیں منظر نامہ‘ کہیں کرداروں کا حلیہ یا قامت اور کچھ نہ ہوا تو علامت یا تجریدکی ڈھال بنائی کہانی اور قاری کا دھیان بہکایا اور چپکے سے لپٹ لپٹا کر وہ سفاک بات کہہ دی جس کے لیے انہوں نے کہانی لکھی ہوتی ہے ۔ قاری کو کہانی کے ایسے بھید بھنور‘ ایسی گولائیاں گہرائیاں اورقوسیں تلاش کرنے کو متن کی دبازت میں اترنا پڑتا ہے یا پھر اس کی کھال چھیل چھیل کر اتارنی پڑتی ہے ۔ خیر ‘ یہ کوئی اتنی معیوب بات بھی نہیں کہ اس سارے عمل کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے اور وہی لوگ اس سے آگاہ ہیں جو سہج سہج آگے بڑھنے ‘ قریب ہونے اور قربت پالینے کا قرینہ اور حوصلہ رکھتے ہیں ۔ لیکن میں توسفاک سماجی حقیقتوں کے مقابل حوصلے سے ہونے کی بات کررہا تھا وہی حوصلہ جو منٹو کے پاس تھا اور جس کے بارے میں منٹو کا دعوی تھا کہ یہ حوصلہ کسی عورت کے پاس نہیں ہو سکتا۔ تو صاحبو خبر ہو کہ یہ حوصلہ لبابہ عباس کے پاس ہے۔ اور وہ بھی اتنی حیرت انگیز حد تک کہ اس نے منٹو کے دعوے کوجھٹلا کر رکھ دیا ہے ۔ اب رہی بات منٹو والے سلیقے کی ‘ تو یوں ہے کہ جو کمر کس لینے کا حوصلہ رکھتی ہو اور کسی بھی بات کو راست بیانیے میں کہہ ڈالنا اس کے لیے مسئلہ نہ بن رہا ہو تو بات کہنے کا سلیقہ کتنے کوس پرے رہ جاتا ہے‘ سو اِدھر سے امید بندھتی ہے اور بجا طور پر بندھتی ہے ۔
٭٭٭٭